Skip to main content

یہ ایک شادی شدہ عورت کی فوٹو هے... اس کے شوهر باهر ملک میں تهے.

یہ ایک شادی شدہ عورت کی فوٹو هے
اس کے شوهر باهر ملک میں تهے. جب شوهر باهر ملک سے آئے تو اپنی بیوی کے لئے اچها خاصا مہنگا موبائل فون لے کر آئے اور اس خوشی میں اپنی بیوی کی تصویر بهی کهینچ لی. ایک دن وہ یہ فوٹو بہت غور سے دیکهہ رهے تهے ..
نہ جانے اس نے فوٹو میں ایسا کیا دیکها کہ اس نے اپنی بیوی کو گولی مار دی اور یہ عورت مر گئ.
پولیس نے آدمی کو گرفتار کر لیا اور گولی مارنے کی وجہ پوچهی تو اس آدمی نے یہ فوٹو دکهائی.
پولیس کو تو پتہ چل گیا لیکن اب آپ لوگ بتائیں کہ اس فوٹو میں ایسا کیا هے جسکی وجہ سے اس نے اپنی پیاری بیوی کو موت کے گهاٹ اتار دیا...
جس کو پتہ چل جائے صرف Done لکھے
جس کو سمجھ نہیں آئی ان باکس میں آئے۔۔


Comments

Popular posts from this blog

کالج_کی_محبت قسط نمبر 2

کالج_کی_محبت قسط نمبر 2 یہ کہہ کر پرنسپل وہاں سے روانہ ہوگئے۔لڑکیاں گرلز ہاسٹل اور لڑکے بوائز ہاسٹل کی طرف روانہ ہوئے۔فاطمہ اور اقرا کو ایک ہی روم مل گیا تھا۔ ∆∆∆∆∆∆∆ لڑکوں کے درمیان دھکم پیل شروع ہوگئی تھی تھی اور ہر کوئی اسی کوشش میں تھا کہ کوئی اچھا سا روم ملے۔۔۔وارڈن بارے دو دو لڑکوں کو روم کی کی چابی دے رہا تھا ۔نوید نام لڑکے کا ڈاون کے ساتھ روم آیا ۔وہ ڈون (سلیمان) کا رومیٹ بن گیا تھا-دونوں روم میں آئیں۔روم کی حالت کافی خراب تھی۔دونوں نے مل کر روم کو خوب صاف کیا اور سیٹ بھی کیا۔ ویسے آپ لوگ یہ سوچ رہے ہونگے کہ سلمان ایک برا لڑکا ہے پھر اس نے نوید  کی مدد کیسی ہے۔۔۔۔ لیکن نہیں دراصل سلیمان جس آوارہ پن کا مظاہرہ کرتا تھا اس کی پیچھے ایک راز تھی۔ دراصل میں سلیمان کے والدین اس کے بچپن میں وفات  پا گئے ہیں اور وہ یہ آوارہ پن اس لئے کر رہا تھا کہ اس اپنے  والدین کی یاد نہ آئے ∆∆∆∆∆∆∆∆∆ سلیمان نوید سے: یار تمہارا نام کیا ہے نوید: میرا نام نوید ہے  سلیمان : تم نے کونسا سبق پڑھنا ہے نوید: یار میں نے تو پری میڈیکل   لیا ہے ...

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کلاس نویں تا

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی زیر صدارت منعقد ہون والے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کلاس نویں تا بارہویں تک کے طلبہ و طالبات کو بغیر امتحانات کے اگلی جماعتوں میں ترقی دینے کی سب کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرلیا گیا ہے۔ سندھ بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کا آغاز صوبے میں کرونا وائرس کی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا تاہم اگر نجی اسکولز چاہیں تو وہ آن لائن کلاسز شروع کرسکتے ہیں اور اس کے لئے انہیں اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو بلوانے کی اجازت ہوگی تاہم اس کے لئے انہیں محکمہ صحت اور ڈبلیو ایچ او کی جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ نجی اسکولوں کی جانب سے پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے پرموٹ کرنے پر تحفظات پر اسٹیرنگ کمیٹی کی ایک سب کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو نہ صرف ان تحفظات کو دور کرے گی بلکہ وہ آئندہ تعلیمی سال کے لئے پلان کو بھی مرتب کرے گی اور تعلیمی اداروں کو کھولنے اور کھلنے سے قبل وہاں پر تمام ایس او پیز کو جامع طور پر نافذ کرنے کے حوالے سے ایک ہفتہ کے اندر اندر اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم ...